پور پور

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - جوڑجوڑ، بند بند۔ 'آدمی کی پور پور میں شرارت بھری ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٤:١ ) ٢ - [ مجازا ]  جسم کی چھوٹی سے چھوٹی جگہ، جسم کا ایک ایک حصہ۔ 'آج انہوں نے پور پور پر مار دی۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ١٢٧:٢ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'پور' کی تکرار لفظی سے مرکب بنا۔ تکرار لفظی صرف اردو میں مروج ہے اور عموماً تحریر میں زور پیدا کرنے، اصرار کرنے یا تفصیل بیان کرنے کے لیے لائی جاتی ہے۔ مذکور ترکیب اردو میں بطور اسم استعمال ہوتی ہے اور سب سے پہلے ١٨٠١ء کو 'آرائش محفل" میں مستعمل ملتی ہے۔

مثالیں

١ - جوڑجوڑ، بند بند۔ 'آدمی کی پور پور میں شرارت بھری ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٤:١ ) ٢ - [ مجازا ]  جسم کی چھوٹی سے چھوٹی جگہ، جسم کا ایک ایک حصہ۔ 'آج انہوں نے پور پور پر مار دی۔"      ( ١٩٢٦ء، نوراللغات، ١٢٧:٢ )

جنس: مؤنث